دارجیلنگ، اپریل 1916
پہاڑی ہوا کی خنکی کے باوجود محمد علی کی کنپٹی پر پسینے کا ایک قطرہ تھرتھرا گیا۔ اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا ہے جیسے وہ دو میل نیچے دارجیلنگ کے چوک بازار سے چڑھائی چڑھ کر یہاں پہنچا ہو۔ اسے احساس ہے کہ وہ فیصلہ کن لمحہ آ پہنچا ہے، جس کا نتیجہ جو بھی نکلے، اس کی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی: اس لمحے سے پہلے، اس لمحے کے بعد۔
محمد علی، جو بمبئی کے متعصب گورنر لارڈ ولنگڈن سے ٹکر لینے میں ایک پل کو نہیں ہچکچایا، جس کی زبان سخت گیر میجسٹریٹ سی ڈبلیو ہیچ کو بھری عدالت میں طنز کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکی، ہزاروں کے سیاسی جلسے میں ہوٹنگ کرتی پبلک کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کبھی لفظوں نے ساتھ نہیں چھوڑا، وہ یہاں خود کو ایک ان گھڑ دیہاتی وکیل کی طرح محسوس کر رہا ہے جو یکایک بھرے کورٹ روم میں پہنچا دیا گیا ہو اور اسے میجسٹریٹ کے سامنے ایسے کیس کے دلائل پیش کرنے ہوں جس کا مطالعہ کرنے کا وقت نہ ملا ہو۔
وہ اس وقت سر ڈنشا مانیک جی پٹیٹ سیکنڈ بیرونیٹ کے عالیشان گرمائی محل ’پٹیٹ شیٹو‘ کے نفاست سے تراشے ہوئے لان میں بیٹھا تھا جو امارت اور شان و شوکت کے اشتہار کی طرح پھیلا ہوا تھا۔نیچے دور سیڑھی در سیڑھی اترتے ہوئے چائے کے باغات کے پیچھے دارجیلنگ کا مرکزی بازار تھا۔
شام کے وقت سر ڈنشا کے ساتھ لان میں چائے پیتے ہوئے محمد علی نے مشرق کی سمت نظر دوڑائی تو اس کا دل اوب گیا۔ لان کی لہراتی گولائیوں کے اوپر پہاڑوں کی صفوں کے پیچھے، دھند کی چادروں کے پار سو میل دور ماؤنٹ ایورسٹ کی تکون تھی مگر اس وقت وہاں بادلوں کا غبار چھایا ہوا تھا۔ ایورسٹ کے راستے میں درجنوں ناقابلِ عبور کھائیاں، برفانی ترائیاں اور سنگلاخ درے آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی انسان اس چوٹی کو سر کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ محمد علی کا وہم اور بےیقینی کی دھند میں جکڑا ہوا دل آج جس مہم پر نکلا تھا وہ بھی ایورسٹ کو تسخیر کرنے سے کم نہیں ہے۔
محمد علی نے بےقراری سے مٹھیاں کھولنا بھینچنا شروع کر دیں۔ اس کی انگلیوں کی پوریں پسینے سے نم تھیں۔
چوبیس۔
یہ ہندسہ اس کے ذہن میں دنیا کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے کے لیے چوبیس برفانی گھاٹیوں کی طرح دشوار گزار لگ رہا تھا۔ یہ اس کی اور رتی کی عمروں میں برسوں کا فرق تھا۔ اس نے اپنی آسمانی رنگ کی ریشمی ٹائی کی گرہ سیدھی کی جو رتی نے اس کے لیے خریدی تھی اور وہ آج اسے بطور سہارا باندھ کر آیا تھا۔ اس نے ایک بار پھر مٹھیاں بھینچ کر ہلکا سا کھنگورا لیا۔ یہ عدالت میں مخالف وکیل کے دلائل کے پرخچے اڑانے کے لیے اس کا خاص انداز ہوا کرتا تھا۔
’چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے مسٹر جناح۔‘
سر ڈنشا کی آواز نے محمد علی کو چونکا دیا۔ وہ خالص ’کنگز انگلش‘ بول رہے تھے جس میں خفیف سی گجراتی کی لٹک برقرار تھی، جسے محمد علی جیسا گجراتی ہی محسوس کر سکتا تھا۔ میز کے پار، اس کا پرانا دوست ایسے اعتماد کے ساتھ بیٹھا تھا جس کے سامنے ہر بات کی جا سکتی تھی، مگر یہ بات؟
’شکریہ، مسٹر ڈنشا،‘ محمد علی نے جواب دیا۔ اندرونی ہلچل کے باوجود اپنی آواز کے استحکام سے محمد علی کو خود حیرت ہوئی۔
سفید ریشمی شرٹ اور سفید ہی بو ٹائی پہنے انگریز بٹلر محمد علی کی پیالی میں ٹی کوزی لگی چائے دانی سے چائے انڈیلنے لگا۔ محمد علی نے ہاتھ بڑھایا اور چینی کی نفیس پیالی اٹھا کر چسکی لی۔ سر ڈنشا اس کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے۔ ان دونوں کا پہلی بار 1898 میں بمبئی کی سول کورٹ میں آمنا سامنا ہوا تھا، اور وہ بھی اس صورت میں کہ دونوں مخالف کٹہروں میں تھے۔ سر ڈنشا نے بمبئی کے چند سرکردہ تاجروں کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا کہ وہ انہیں بلیک میل کر رہے ہیں۔ محمد علی نے چند ہی پیشیوں میں سر ڈنشا کے وکیل کے دلائل کے پرخچے اڑا کر فیصلہ ان کے خلاف کروا دیا۔ اس کے دو تین ہفتے بعد جب اورینٹ کلب میں بلیئرڈز کھیلتے ہوئے محمد علی اور سر ڈنشا کا آمنا سامنا ہوا تو محمد علی کا خیال تھا کہ شاید کیس ہارنے کے بعد سر ڈنشا کے دل میں گرہ پڑ گئی ہو گی، مگر اسے حیرت ہوئی کہ سر ڈنشا بڑی گرم جوشی سے ملے اور نہ صرف اس کی صلاحیتوں کی کھلے دل سے داد دی بلکہ اسے ایک مقدمہ لڑنے کی پیشکش بھی کر دی۔ وہ سرکردہ گجراتی اخبار ’جامِ جمشید‘ کے خلاف ہتکِ عزت کا کیس کرنا چاہتے تھے جس نے ان کے خلاف ایک خبر چھاپی تھی۔ اس کے بعد دونوں کی دوستی پکی ہونے میں دیر نہیں لگی۔
’آج آپ کچھ کھوئے کھوئے نظر آتے ہیں، مسٹر جناح،‘ سر ڈنشا نے اپنی چائے کی پیالی میں چمچ ہلاتے ہوئے کہا۔ ’لگتا ہے کانگریس کمیٹی آپ کو یہاں بھی مصروف رکھے ہوئے ہے۔‘
محمد علی ہلکا سا مسکرایا۔ ’سیاست ہر روز نئے چیلنج پیش کرتی رہتی ہے، لیکن آج نہیں، آج ایک اور سوچ میرے دل پر حاوی ہے۔‘
دارجیلنگ چائے کی مہک باغ کے گلابوں کی خوشبو میں گھل رہی تھی۔ دور ہمالیہ کی سفید چوٹیوں پر بادلوں کے سائے سست روی سے سفر کر رہے تھے۔
’ہوں ں،‘ سر ڈنشا مسکرائے۔ ’سوچ دل پر حاوی ہے، دماغ پر نہیں؟ وہ سوچ مجھ سے شیئر کرنا پسند کریں گے، مسٹر جناح؟ یقین رکھیے میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔‘
محمد علی نے گلا صاف کیا۔ ’آپ جانتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے ہندوستان کے مستقبل پر غور کر رہا ہوں۔ سیاسی مستقبل ہی پر نہیں، سماجی مستقبل پر بھی۔ برادریوں کے درمیان رکاوٹیں، ہندو، مسلمان، عیسائی، پارسی، سکھ۔ یہ دیواریں ہیں جو برادریوں کو آپس میں بات کرنے یا ایک دوسرے کو سمجھنے سے روکتی ہیں۔‘
’سو فیصد متفق،‘ سر ڈنشا نے سر ہلایا۔ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تقسیم ہمارے ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔‘
’میں جانتا ہوں کہ آپ اس معاملے میں ہمیشہ سے کھلے دل کے مالک رہے ہیں،‘ محمد علی نے بات جاری رکھی۔ اب وہ یوں ناپ تول کر بول رہا تھا جیسے ہر لفظ سنار کی چمٹی سے پکڑ کر اٹھا کر رہا ہو۔ ’آپ کی کاروباری سرگرمیاں، دوستیاں اور سماجی تعلقات بھی مذہبی حدود سے ماورا ہیں۔‘
سر ڈنشا کا چہرہ دمک اٹھا۔ ’میں جدید ہندوستان پر یقین رکھتا ہوں، جناح۔ ایک ایسا ہندوستان جہاں فرد کی قدر و قیمت کا تخمینہ ذات، برادری اور طبقے سے الگ ہٹ کر لگایا جائے۔‘
محمد علی نے چند لمحوں کا توقف کیا اور پھر کرسی پر تھوڑا سا آگے جھک گیا۔ ’اور شادی بیاہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، سر ڈنشا؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بین المذاہب شادیاں ہندوستان کے لرزتے ہوئے سماجی ڈھانچے کو ٹیک دے سکتی ہیں؟‘
’بالکل،‘ سر ڈنشا نے فوری جواب دیا۔ ’اس قسم کے جوڑ اعلیٰ ترین نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ عملی طور پر بعض اوقات انفرادی مشکلیں ضرور آتی ہیں۔ لیکن آپ آج یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ میں نے اپنے رشتے دار دادابھائی ٹاٹا کی فرانسیسی عورت سے شادی کی حمایت میں پارسی پنچایت کے خلاف کیس دائر کیا تھا۔ کیا آپ یہ واقعہ بھول گئے ہیں؟‘
’یعنی آپ ایسی شادیوں کے حق میں ہیں؟‘ محمد علی نے سر ڈنشا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
’اگر ایسے فیصلے اونچ نیچ کو سامنے رکھ کر ہوش مندی سے کیے جائیں تو ان میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ اس سے بقول آپ کے، ہمارے دیواروں میں بٹے معاشرے کو قریب لانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘ سر ڈنشا نے پرچ میں رکھا ایک بسکٹ اٹھا کر چباتے ہوئے کہا۔ ’لیکن آج آپ نے یہ بحث کیوں چھیڑ دی مسٹر جناح؟ میں جانتا ہوں آپ کا مشن ہندوستانیوں کو بحیثیتِ قوم قریب لانا ہے۔ لیکن کیا ذاتی طور پر بھی آپ کچھ ایسا سوچ رہے ہیں؟‘ سر ڈنشا نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
محمد علی نے سامنے دیکھا۔ مشرقی افق پر ہمالیائی چوٹیوں کی دودھیا مخروطی قطاروں کے آگے سے بادل چھٹ گئے جیسے کسی نے کھڑکی کا پردہ کھول کر باہر کا منظر عیاں کر دیا ہو۔ برفیلی تکونیں وہ ڈھلتے سورج کی کرنوں کا آخری بوسہ پا کر یکایک سونے کی طرح دمک گئیں۔ محمد علی نے لحظہ بھر اس طرف دیکھا۔ اس منظر نے اسے حوصلہ دے دیا تھا۔ اس نے گہری سانس اندر کھینچی، اور سوچا، It’s worth it وہ لمحہ آ گیا تھا جس کے لیے وہ کئی دنوں سے تیاری کر رہا تھا۔
پچھلے ہفتے ایورسٹ ویو پوائنٹ پر محمد علی نے صبح چھ بجے اسے رتی کے ساتھ مل کر دیکھا تھا۔ رتی ہی اسے تقریباً زبردستی گھسیٹ کر گھڑ سواری کرتے ہوئے اوپر پہاڑی کی چوٹی پر لے گئی تھی۔
صدیوں پرانے شاہ بلوط کے درختوں سے ڈھکے نیم تاریک راستے پر نیلی رائیڈنگ سکرٹ اور گھٹنوں تک آتے چمڑے کے کسے ہوئے جوتوں میں ملبوس رتی نے محمد علی سے دوڑ لگانا شروع کر دی۔ وہ بھورے رنگ کی پست قد منی پوری گھوڑی پر سوار تھی جو ان تنگ پہاڑی راستوں پر قدم جما کر بھاگنے کی ماہر تھی۔ محمد علی منجھا ہوا شاہسوار تھا، جو موٹر کار عام ہونے سے پہلے بمبئی میں اپنے سیاہ رنگ کے ویلر گھوڑے پر روزانہ عدالت جاتا تھا۔ وہ چاہتا تو رتی سے آگے نکل سکتا تھا، مگر جب اس نے صبح کی سرد ہوا میں رتی کے پرچم کی طرح لہراتے گھنے سیاہ بال دیکھے تو گھوڑا سست کر دیا۔ وہ خوشبو کے ہیولے کی طرح اس کے قریب سے نکل گئی تو محمد علی نے زیرِ لب کہا، Yes, it’s worth it۔‘
اوپر پہنچ کر دونوں نے مشرق کی طرف آنکھیں جما لیں۔ رتی کے پاس دوربین تھی جسے وہ بےصبری سے ادھر ادھر گھما رہی تھی۔ اچانک اس کے منھ سے ایک چیخ نکلی۔ اس نے جلدی سے دوربین محمد علی کو تھما کر انگلی سے اشارہ کیا۔ محمد علی نے دیکھا، صبح کی کرنوں میں ایورسٹ نے بس ایک ثانیے کو کسی شرمیلی حسینہ کی طرح ہلکی سی چھب دکھلا کر دھند میں منھ چھپا لیا۔ محمد علی نے دوربین واپس کرتے ہوئے رتی کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ مارے خوشی کے صبح کے سورج کی طرح تانبا ہو گیا تھا اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اٹھ کر فاکس ٹراٹ رقص شروع کر دے۔ جیسے یہی لمحہ زندگی کا حاصل ہو۔ محمد علی کے لیے ماؤنٹ ایورسٹ کا دیکھنا کوئی بڑی بات نہیں تھی، وہ دو سال پہلے بھی یہیں یہ نظارہ کر چکا تھا، مگر اس وقت رتی کا تمتماتا جذبہ دیکھ کر اس نے سوچا، ہاں واقعی، چھوٹی سے چھوٹی خوشی بھی زندگی کا حاصل ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد سے وہ مسلسل منصوبہ بندی کرتا رہا، اور اسی منصوبہ بندی کے نتیجے میں وہ شام کو ڈنشا شیٹو کے لان میں سر ڈنشا کے سامنے بیٹھا تھا۔
’دراصل، بات یہ ہے سر ڈنشا۔۔۔‘ محمد علی چند لمحوں کے لیے خاموش رہا جیسے اپنے اظہار کے لیے مناسب پیرایہ تلاش کر رہا ہو۔ ایک لحظے کے لیے اس کے دل میں جھجھک پیدا ہوئی اور اس نے سوچا کیوں نہ آج جانے دوں اور پھر کسی اور مناسب وقت پر بات چھیڑوں؟
سر ڈنشا نے پوچھا، ’یس مسٹر جناح؟ آپ رک کیوں گئے؟‘
محمد علی کی آنکھوں کے آگے گھوڑے پر سوار گھنے بال ہوا میں لہراتی رتی کی تصویر تیر گئی۔ اس نے دل ہی دل میں دہرایا، نہیں، ٹالنے سے کام نہیں چلے گا۔ جو کچھ ہونا ہے، آج ہی ہو جائے۔ اس نے گہری سانس لی۔ مٹھیاں بھینچیں اور ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا، ’سر ڈنشا، میں آپ کی بیٹی۔۔۔ رتن بائی۔۔۔ کا ہاتھ اپنے لیے مانگنا چاہتا ہوں۔‘
سر ڈنشا، جو چائے کی پیالی اٹھا کر ہونٹوں کے قریب لا رہے تھے، وہیں منجمد ہو گئے۔ دل کی چھ سات دھڑکنوں تک خاموشی ان دونوں کے درمیان موٹے شیشے کی چادر کی طرح حائل ہو گئی۔
سر ڈنشا نے پیالی دوبارہ پرچ میں رکھ دی۔ لرزتے ہوئے ہاتھوں کی وجہ سے پیالی پر لڑکھڑا گئی اور گرتے گرتے بچی۔ ان کی آواز بمشکل گلے سے نکلی، ’آئی بیگ یور پارڈن؟ میری سمجھ میں۔۔۔ آپ، آپ ک کس کی بات کر رہے ہیں، کیا بات کر رہے ہیں؟‘
’سر ڈنشا، میں رتی کی بات کر رہا ہوں۔ رتن بائی کی۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلے میں آپ کی جو شرائط ہوں گی، وہ میں پوری کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘ محمد علی اب تیز تیز بول رہا تھا۔ شاید وہ جلد از جلد اس خجالت آمیز مرحلے سے گزر جانا چاہتا تھا جس کا سامنا اس سے پہلے اسے زندگی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔
سر ڈنشا کرسی میں پیچھے دھنس گئے۔ ’میں کچھ اور سمجھ۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ بات بہت۔۔۔ غیر متوقع ہے۔‘
’مجھے احساس ہے کہ آپ کو حیرت ہوئی ہو گی،‘ محمد علی کا لہجہ اب پرسکون ہو گیا تھا، جیسے اس کے سینے سے سل ہٹ گئی ہو۔ ’یقین جانیے، میرے لیے بھی یہ لمحے آسان نہیں ہیں۔ میں نے سو بار سوچا کہ آپ سے یہ بات کروں، نہ کروں، کسی اور کو بیچ میں ڈالوں۔ لیکن سوچ بچار کے بعد اسی فیصلے پر پہنچا کہ کسی اور کے وسیلے کی بجائے براہِ راست آپ سے بات کی جائے۔ رتی کے لیے میرے جذبات سچے ہیں، اور خود رتی بھی ایسا ہی چاہتی ہے۔‘
’رتی؟ رتی بھی ایسا ہی چاہتی ہے؟‘ سر ڈنشا کی آواز قدرے بلند ہو گئی۔ ’رتی؟ وہ سولہ سال کی ہے، جناح۔ بچی ہے۔‘
’میں جانتا ہوں وہ سولہ سال کی ہے، اور کم عمر ہے،‘ محمد علی نے کہا۔ ’لیکن اس کے ذہن کی پرواز اور روح کی پختگی اس کی اصل عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے لیے آپ داد کے مستحق ہیں، سر ڈنشا، کہ آپ نے اسے آزادانہ طور پر سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی آزادی دی ہے۔‘
سر ڈنشا کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ ’میں نے اسے ایک روشن خیال پارسی خاتون بننے کے لیے پالا ہے، نہ کہ وہ کسی۔۔۔‘ انہوں نے خود کو روک دیا، لیکن ان کے ان کہے الفاظ ہوا میں معلق ہو گئے۔
’مسلمان سے شادی کرے؟‘ محمد علی نے بات مکمل کی۔ اس کا لہجہ سرد ہو گیا۔ ’سر ڈنشا، میں سمجھتا تھا کہ آپ کی روشن خیالی نظریاتی بحثوں سے آگے بڑھ کر کبھی عملی میدان میں بھی قدم رکھے گی۔‘
سر ڈنشا ایک جھٹکے میں کھڑے ہو گئے، ان کی گھٹنے کی ٹکر سے میز پر رکھے برتن جھنجھنا اٹھے۔ دور کھڑے بٹلر نے کنکھیوں سے دیکھا، مگر وہیں رکا رہا۔ ’تمہیں احساس ہے کہ تم نے کیا حرکت کی ہے، اور وہ بھی میرے گھر میں آ کر، اور اور اور۔۔۔ میرا مہمان بن کر؟ جناح، تم عمر میں میرے برابر ہو، دو تین سال کا ہی فرق ہو گا، اور تم میری نابالغ بیٹی سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟ کیا تم ہوش و حواس سے ہاتھ دھو بیٹھے ہو؟‘
محمد علی آہستگی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کوٹ کے بٹن بند کر لیے۔ شام کے ملگجے نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے ہمالیائی چوٹیوں پر پردہ ڈال دیا تھا۔
’میں عمروں کے فرق سے پوری طرح آگاہ ہوں، سر ڈنشا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، یہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہے جسے میں نے ہلکا لیا ہو۔ لیکن رتی میں ایک پختگی اور ذہانت ہے جو اس کی عمر سے کہیں زیادہ۔۔۔‘
’میری بیٹی کے بارے میں اس طرح بات کرنا بند کرو جیسے تم اسے مجھ سے بہتر جانتے ہو!‘ سر ڈنشا نے بلند آواز سے کہا۔ ان کی گردن کی رگیں تن گئیں۔ ’یہ۔۔۔ شرمناک ڈراما میرے ہی گھر میں میری ناک کے نیچے چل رہا ہے؟ کیا تم اس سے چھپ چھپ کر ملتے ہو؟‘
’ہم ہندوستانی سیاست، عورتوں کے حقوق، ادب اور دوسرے موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتے رہتے ہیں۔‘ محمد علی نے ہاتھ پتلون کی جیبوں میں ڈال لیے۔ اب اس کی آواز میں ایک قسم کی پختگی آ گئی تھی۔ ’مرحوم فیروز شاہ مہتا بھی اس بات کے حق میں تھے۔۔‘
’فیروز شاہ کی تو ایسی کی تیسی۔ اس بڈھے کھونس کی جرات کیسے ہوئی یہ سوچنے کی کہ میں اپنی بیٹی کو باپ کی عمر کے آدمی کے حوالے کر دوں گا۔ اور آدمی بھی جو بالکل ہی دوسری برادری کا ہے؟‘
’سر ڈنشا، میں نے یہ بات آپ کے تمام تر احترام کو ملحوظ رکھ کر کی ہے۔ آپ کے پاس احترام سے آیا ہوں، ایک دوست کی حیثیت سے۔ لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ رتی میرا ہی ساتھ دے گی۔‘
سر ڈنشا کی آنکھیں پھیل گئیں۔ ’تم مجھے دھمکی دے رہے ہو کہ تم میری بیٹی کو ورغلا کر میرے خلاف کر دو گے؟‘
’یہ محض حقیقت کا اعتراف ہے،‘ محمد علی نے کہا۔
’نکل جاؤ میرے گھر سے۔‘ سر ڈنشا کی آواز بلند ہو گئی۔ لان میں کام کرتے مالی اپنی اپنی جگہ رک گئے۔ انگریز بٹلر دو قدم آگے بڑھا، پھر ٹھہر گیا۔ گھر کے دروازے سے بھی دو نوکر نکل آئے لیکن کوئی قریب نہیں آیا۔ ’میں نے ایک دوست سمجھ کر تمہیں یہاں آنے کی دعوت دی تھی اور تم نے مجھے اس کا یہ بدلہ دیا ہے، یہ یہ یہ غداری ہے۔۔۔ سراسر غداری۔‘
’میں آپ کو تکلیف پہنچانے پر معذرت خواہ ہوں، سر ڈنشا۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بس میری اتنی درخواست ہے کہ جو میں نے کہا، اس پر اچھی طرح سے غور و فکر کر لیجیے گا۔‘ محمد علی نے واپس جانے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹایا۔ ’مجھے معلوم نہیں تھا کہ قومی اتحاد کے بارے میں آپ کے سیاسی اور ذاتی نظریات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آپ کا احترام میرے دل سے کبھی کم نہیں ہو گا۔‘
’تم اور تمہارا احترام!‘ سر ڈنشا تلخی سے ہنسے۔ ’اپنی سیاست کہیں اور لے جاؤ، جناح۔ میرا گھر تمہارے قومی اتحاد کے نظریات کی بلی نہیں چڑھ سکتا۔‘ سر ڈنشا بٹلر کی طرف مڑے۔ ’سیموئل، اس شخص کا سامان اس کے کمرے سے لے آؤ اور دونوں کو گیٹ سے باہر چھوڑ دو۔‘
محمد علی جانے کے لیے مڑا۔ اس نے ایک نظر ڈنشا شیٹو پر ڈالی۔ دھند نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے عمارت کو لپیٹ میں لینا شروع کر دیا تھا۔
